یوں تو یہ قصہ بہت پرانا ہے  اور عین ممکن ہو آپنے  نے پہلے بھی کئی بار سنا ہو۔ لیکن آج ہم اس قصے سے کچھ سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے۔


بہت سالوں پہلے کی بات ہے کہ کسی سلطنت کا بادشاہ  بڑا حسن پرست تھا ۔ ایک روز جب  وہ حسب معمول  سلطنت کے گشت پر تھاتو اسکی نظر ایک بے حد حسین بھکارن پر پڑی  جو در در جاکر بھیک مانگ رہی تھی۔بادشاہ بھکارن کی خوبصورتی کے سحر میں کھوساگیا ا اور اس نے اس سے شادی کا فیصلہ کرلیا۔ حاکمِ وقت کے لئے یہ کونسا مشکل کام  تھا۔ شاہی  ملازموں نے  نے فوراً بھاگ دوڑ کرکے شادی کا اہتمام کردیا اور  کل کی بھکارن ملکہ کے بن کر  شاہی محل میں پہنچ گئی۔ پل بھر میں بھکارن  کی زندگی کے سارے چلن بدل گئے۔ زرق برق لباس، شاہی کنیزوں کی قطار، دستر خوان پر انواع و اقسام کے کھانے غرضیکہ دنیا کی ہر نعمت نئی ملکہ کو دستیاب تھیں۔ لیکن ان تمام تر سہولتوں کے باوجود بادشاہ  نے بارہا محسوس کیا کے نئی ملکہ کی طبیت اضطراب  اور پریشانی کا شکار ہے اور دن بہ دن ملکہ کی صحت خراب ہوتی  جا رہی ہے ۔ خاص طور پر جب ملکہ کے سامنے شاہی دسترخوان بچھایا جاتا ملکہ کھانا کھانے کی بجائے بار بار پہلو بدلتی نظر آتی۔ بادشاہ نے ملکہ کی پریشانی کو بھانپتے ہوئے شاہی طبیبوں سے رجوع کیا اور  تمام تر علاج معالجے کے باوجود بھی جب ملکہ کی طبیت میں کوئی بہتری نظر نہیں آئی تو بادشاہ بہت پریشان رہنے لگا اور اپنے سب سے خاص وزیر سے صلح مشورہ کیا ۔ وزیر نے مشورہ دیا کے آج کل سلطنت میں ایک درویش قیام پزیر ہیں جن کی حکمت اور دانائی کے  چرچے دور دور تک ہیں۔  چناچہ اگلے ہی روز بادشاہ نے اس درویش کو دربار میں طلب کرلیا۔  جب اگلے روز وہ درویش دربار میں آیا تو اُس نے کہا کے وہ ملکہ کے  بارئے میں پوری معلومات چاہتا ہے اُسکا حسب نسب جاننا چاہتا ہے اور چند گھنٹے ملکہ کی تمام حرکات و سکنات کا  بہ غور مشاہدہ کرنا چاہتا ہے، چناچہ درویش کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے ایک وزیر نے ملکہ کی تمام تر حقیقت بیان کردی  اور الگے چند گھنٹے درویش ملکہ کی تمام تر حرکات کا مشاہدہ کرتا رہا۔ بل آخردرویش نے مسئلہ کو سمجھتے ہوئے   مشورہ دیا کے محل کے اندر ایک لمبی دیوار بنادی جائے اور اس دیوار میں تھوڑے تھوڑے فاصلوں پر دروازے لگادیئے جائیں اور  ان دروازوں کے پیچھے کنیزوں کی ایک قطار کھڑی کردی جائے۔چناچہ ایسا ہی کیا گیا  جب یہ کام مکمل ہوگیا تو درویش نے کہا کہ  اب کھانے کے وقت ملکہ ایک ایک درواز کھٹکھٹائےاور بھیک مانگنے کے انداز میں آواز لگائے چناچہ ایسا ہی کیا گیا۔دروازہ کھلتا اور کنیز ملکہ کی جھولی میں بھیک ڈال دیتی ، یوں ملکہ کی پریشانی دور ہوئی اور اسکی  بھیک مانگ کر کھانے کی جو فطرت و  عادت تھی اُسکو تقویت ملنے  لگی اور ملکہ کی پریشانی اور دکھ دور ہوگیا۔

یہاں جو بات سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ انسان فطرت پیدائش کے سات سالوں میں ترتیب پاتی ہے اور اس کے بعد اس فطرت کو بدلنا بہت مشکل ہوجا تا ہے  پھر اگر وہ اپنی فطرت کے خلاف کوئی کام کرتا ہے یا کوئی کام اُسکو اپنی فطرت کے خلاف ہوتا دیکھائی دیتا ہے تو اُس طبیت ناساز ہوجایا کرتی ہے ۔ روحانی کیمیا گروں نے اس فطرت کی تبدیلی کو ٹرانسفارمیشن کا نام دیا ہے جو کہ خاصہ تکلیف دہ عمل ہوتا ہے ۔ رومی اس بارے میں کچھ اس طرح فرماتے ہیں کہ  ہم کو مسلسل اپنا دل توڑنے کی ضرورت ہوتی ہے جب تک کہ ہمارا دل کھل نا جائے

یہاں کھلنے سے مراد قلب کی بیداری یا ٹرانسفارمیشن ہے۔ دوسری جانب اگر غور کیا جائے تو اس قصہ سے ایک بات اور سیکھنے کو ملتی ہے وہ یہ کہ ہمارا دماغ اکثر اوقات اپنی زندگی کے کسی ایک دائرے میں پھنس جاتا ہے  اور پھر اللہ عزوجل کے لاکھ انعام و اکرام کے باوجود ہم اُسے دائرے کے ارد گرد چکر لگاتے نظر آتے ہیں اور اپنے قلب کو اس بات کا احاطہ کرنے سے لاشعوری طور پر روک رہے ہوتے ہیں کہ اُس دائرے کے باہر جو زندگی اللہ عزوجل نے ہمارے لئے رکھی ہے وہ اس دائرے کی تگ و دوڑ سے قدرے بہتر اور خوبصورت ہے  اور بل آخر ہم اس دائرے کے باہر کی زندگی کی خوبصورتی کو صحیح معنوں میں سمجھنے اور اُسکا لطف حاصل نہیں کرپاتے۔ آخر میں اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمیں ہمارے دائروں سے باہر نکلنے کو توفیق عطا کریں  اور ہمیں ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی عقل دیں جو اللہ عزوجل نے بل خصوص  ہمارے لئے پیدا کی ہیں، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان نعمتوں پر بھی وقت کی دھول چڑھ جاتی ہے  اور زندگی کے کسی حصے میں وہ نعمتیں ہم سے چھین لی جاتی ہیں اس وقت ہمارے پاس پچھتاوے ، دکھ اور تکلیف کے سوا اور کچھ باقی نہیں رہتا۔