دُعا بددُعا

دُعا بددُعا

اکثر معاشرے میں ایسے لوگ دیکھنے ، سُننے میں آتے ہیں جِن کے بارے مشہور ہوتا ہے کہ جناب اُنکی بدُعا میں بڑا اثر ہے یا فلاں صاحب یا خاتون کی زبان بڑی کالی ہے۔ اِس مقام پر بھی سارا کھیل عقیدے اور یقین کا ہے اُنکی بدُعا میں اثر یا اُنکی زبان کالی ہو نہ ہو آپکے دماغ نے اِس عقیدے کو قبول کرلیا اور آپکے یقین نے آپکے شعور اور لاشعور پر یہ بات سوار کروا دی ، اِس لیے اب جب بھی وہ صاحب یاصاحبہ آپکو بدُعا دینگی اُنکی بدُعا میں اثر ہو یا نہ ہو آپکا اپنا یقین آپکے لیے ایسے حالات پیدا کردیگا جن میں وہ بدُعا سچ ہوتی نظر آئیگی۔ یاد رکھیں بدُعا اثر نہیں کرتی جب تک آپکی ذات سے بدُعا دینے والے کی کوئی دِل آزاری نا ہوئی ہو ورنہ اِس طرح دُنیا کا ہر اِنسان اپنے حسد اور کینہ میں دوسروں کو بدُعا دیتا رہے۔ اگرچہ نظر بد اور زبان کی ٹوک کا ہونا حقیت ہے مگر اِسکا مطلب یہ نہیں کے آپ اِس بات کو خود پر اِس قدر سوار کرلیں کے آپکا اپنا یقین آپکو کھیل تماشے دیکھانے لگ جائے۔

عقائد کی کمزوری کے نقصان

جب عقائد کمزور ہوتے ہیں تو سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے ایمان کا کیونکہ جب یقین شیاطینی طاقتوں کے زور پر بڑھ جاتا ہے تو پھر آپکا ایمان اور یقین حق تعالٰی کی طاقت سے کنارا کرنے لگ جاتا ہے۔ ایسی صورت میں آپکا دماغ اور روحانی ڈھانچہ کمزور پڑنے لگ جاتا ہے اور بدقسمتی سے یہی وہ موقع ہوتا ہے جب شیاطینی قوتیں آپکے دل و دماغ پر اپنا قبضہ جمالیتی ہیں پھر چاہے وہ بھٹکے ہوئےہمزاد ہوں یا جنات کیونکہ یہ تمام شیاطینی قوتیں ایسے ہی مادی جسم ڈُھونڈتی ہیں جن کے عقائد کی کمزوری کی وجہ سے اُنکا دماغ اور روحانی ڈھانچہ کمزور پڑگیا ہو۔ کیونکہ ایسے جسم حق تعالٰی پر اپنا ایمان اور یقین پہلے ہی کمزور کر کے اپنے روحانی نظام میں خرابیاں پیداکر چکے ہوتے ہیں، اِس لیے شیاطینی قوتوں کو ایسے جسم پر قبضہ کرنے میں زیادہ مُشکل پیش نہیں آتی ۔ دُوسری طرف اگر آپ شیاطینی قوطوں کے شکنجے میں نہیں پھنستے تو غلط عقائد کی وجہ سے آپکے اپنے دماغ و روحانی ڈھانچے کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے جس وجہ سے آپ روحانی بے سکونی و بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔

میاں صاحب کی کتاب جادُو اور جنات آسان علاج سے اقتباس

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)

Facebook0
Twitter23k
Pinterest0
LinkedIn