عقائد اور اُنکی اہمیت

عقیدہ کیا ہے؟


عقیدہ مادی زندگی گزارنے کا ایک مخصوص طریقہ کار ہے۔ ہر انسان اپنے اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارتا ہے دُنیا کا کوئی بھی انسان اِس بات کو کہنے کا مجاز نہیں کے وہ اپنی زندگی بناء کسی عقدے کے ہی گزار رہا ہے۔ غرض کہ ہر بشر شعوری یا لاشعوری طور پر کسی نہ کسی عقیدے کی پیروی کررہا ہے اُس کی زندگی کسی نہ کسی عقیدے کے گِرد گھوم رہی ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں عقائد بہت بنیادی کردار کرتے ہیں۔

عقائد کہاں سے آتے؟


عقائد وراثت میں بھی ملتے ہیں یہ وہ عقائد ہوتے ہیں جو ہمکو اپنے والدین، آباواجدادسے ملتے ہیں۔ اور ہم شعوری لا شعوری طورپراِن عقائد کی پیروی کرنا شروع کردتے ہیں اور آہستہ آہستہ اِنہی عقائدکے رنگ میں ڈھل جاتے ہیں۔ اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب اِن عقائد کی مشق کرتے کرتے ہمارے دماغ کواتنی پختہ عادت ہوجاتی ہے کہ چاہ کر بھی اِن عقائد کی تبدیلی ہمارے لئے وبالِ جاں بن جاتی ہے اور ہم نفسیاتی کھچاؤ تناؤ اور اِنتشارکا شکار ہوجاتے ہیں۔ کچھ عقائد ہمیں ہمارے مدارِس سے ملتے ہیں اسی لئے بچے کی صحیح درسگاہ کا انتخاب بہت زروری ہے۔ ورنہ نتیجہ وہی غلط عقائدکے جال میں پھنس جانا۔

اسی طرح زندگی کے مختلف مراحل میں کبھی دوست احباب کے زریعہ کبھی عزیزواقربا ءکے زریعہ ہمیں مختلف عقائد ملتے رہتے ہیں جن میں سے کچھ ہم نظرانداز کر دیتے ہیں اور کچھ سے ہم متاثر ہوجاتے ہیں جوکہ پھر ہماری مادی زندگی کا حصہ بن  جاتے ہیں اور پھر ہماری زندگی اُنھی عقائد کے گِرد گھومتی رہتی ہے۔کسی بھی عقیدے کو اِختیارکرنے کا دارومدار ہماری پسند یا ناپسند پر نہیں ہونا چاہئے بلکہ اِس بات پر ہونا چاہئے کہ  یہ عقیدہ ہماری آنے والی زندگی پر کیا اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ جب ہم اِس بات کا احاطہ کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے تو پھر ہم خود بہ خود صحیح یا غلط عقیدے میں تمیزکرسکیں گے۔ مجھے علم ہے کے ایسا کرنا کچھ آسان نہیں ہوگا مگر ہم اپنے دماغ کو جس چیز کی عادت ڈالیتے ہیں وہ آہستہ آہستہ وہی عمل کرنا شروع کردیتاہے۔ اب رہ گیا سوال ایسے غلط عقائد کا جن کو ہم پہلے ہی اپنی زندگی کا حصہ بناچکے ہیں تو ایسے غلط عقائد سے چھٹکارہ تو اتنا آسان نہیں کیونکہ یہ عقائدہر طرح سے ہمارے شعور اور لاشعور کا حصہ بن چکے ہیں غرض کہ ہمارہ دماغ اِن عقائد کی پیروی کرنے کا عادی ہوچکا ہے۔ ایسی صورت میں سب سے بہترین حل ہے اپنے دماغ کو صحیح اور غلط کی پہچان کروانا صحیح اور غلط دونوں عقائد اپنے دماغ کے سامنے رکھ دیجئے اور دونوں عقائد کے  فوائد اور نقصانات کا خلاصہ اُس کو بتائیں پھر اُسکو خود اِس بات کا تجزیہ کرنے دیں کے صحیح عقیدہ کونسا ہے اور غلط کونسا۔ یہ سب سے بہترین ہتھیار ہے یقین جانیئے صرف چند دِن ایسا کرنے سے آپ خود دیکھیں گے کے آپکا دماغ کِس طرح صحیح عقیدے کا اِنتخاب کرنا شروع کردیتا ہے۔

عقیدہ اور یقین


عقیدے اور یقین کے درمیان بہت گہرا تعلق ہے۔ عقیدہ زندگی گزارنے کا ایک مخصوص طریقہ کار ہے جب ہم کوئی عقیدہ اپنا لیتے ہیں تو ہمارا دماغ اُس عقدے کی پیروی کرنا شروع کردیتا ہے اور جیسے جیسے یہ عادت پختہ ہوتی جاتی ہے ہمارا شعور اور لاشعور اُس عقیدے پر یقین کرنا شروع کردیتا ہے اور پھر یہ یقین اِتنا مضبوط ہوجاتا ہے کے ہم زندگی کو اور زندگی سے وابسطہ ہر چیز کو اُسی عقیدے  کے حصار  میں قید کرکے  دیکھنا اور جانچنا شروع کردیتے ہیں۔ ہمارا یقین ہر دفعہ ہمارے دماغ کو مجبور کردیتا ہے اُسی عقیدے کو سچ ماننے کے لئے۔ مثال کے طور پر ایک انسان نے جن وبھوت اور جادُو وغیرہ کی تاقتوں کواِس قدر مضبوطی سے اپنا عقیدہ بنالیا کے اب آہستہ آہستہ اُسکا دماغ اِس عقیدہ پر عمل کرنا شروع کردیگا اور پھر جب یہ عادت پختہ ہوجاتی ہے تو ہما شعور اور لاشعور اِس پر یقین کرنا شروع کردیگا، اور پھر بِل آخر یہ یقین اِس قدر مضبوط ہوجائےگا کے وہ ہر ہونیوالی ناگہانی میں جن و بھوت اور جادُو کا عنصر تلاش کرے گا۔ بعض دفعہ یہ یقین اِس قدر مظبوط ہوجاتا ہے کے لوگوں کو جن اور بھوت دیکھائی دینے شروع ہوجاتے ہیں یا اُنکی آوازیں سُنائی دینے لگتی ہیں۔ یہ سارا عمل دخل در حقیت ہمارے یقین کا ہوتا ہے جو ہمارے شعور اور لاشعور کو اِس بات پر قائل کرلیتا ہے کے ایسا ہورہا ہے اور پھر ہماری حِس اِس بات کو محسوس کرنا بھی شروع کردیتی ہے جس کی وجہ سے ہمیں مختلف شکلیں یا آوازیں سُنائی دیتی ہیں۔ یقین کی قوت کا چھوٹا سا ثبوت یہ ہے کہ آپ ایک جگہ سُکون سے بیٹھ جائیں اور اپنی نظریں اپنے ہاتھ پر جمالیں اب اپنے دماغ میں تکرار کرتے جائیں کے آپکا ہاتھ گرم ہورہا ہے یقین جانیئے کے چند لمحوں بعد ہی آپکو آپکا ہاتھ گرم ہوتا محسوس ہوگا۔

 یہ قوتِ یقین ہی ہے جس نے انسان سے بڑی بڑی ایجادات کروائی اور یہ قوتِ یقین ہی ہے کہ اﷲتعالی کے نبیوں ،دوستوں، ولیوں کا سامنا جب جادُوگروں، جناتوں سے ہوا تو وہ اُنکا بال بھی بیکا نا کرسکے کیونکہ اُنکو اپنے خالِق حقیقی پر یقین ہوا کرتا تھا نا کہ شیاطینی طاقتوں کے زور پر۔

جن یا بھوت کے وجود پر عقیدہ رکھنے میں کوئی ہرج نہیں مگر یہ عقیدہ رکھنا کے ہمارے ساتھ ہونے والی ہر ناگہانی یا پریشانی کا سبب بیچارے جن اور بھوت ہیں حماقت کے علاوہ  کچھ نہیں۔ اِس طرح آپ ناصرف غلط عقائد کا شکار ہوتے ہیں بلکہ روحانی و ذہنی طورپر بیمار بن جاتے ہیں۔

میاں صاحب رحمانیہ فریدی کی کتاب جادو اور جنات آسان علاج سے اقتباس

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)

Facebook0
Twitter23k
Pinterest0
LinkedIn