اسلام و علیکم

ہر طرف لاک ڈاؤن، کروناوئرس کی باتیں اور افراتفری کا ماحول ہے مگر کیا ہم نے کبھی غور کیا کے ہم اس سب سے کچھ مثبت چیزیں بھی سکتے ہیں ۔ میں نے تو اس ساری صورتحال سے بہت کچھ سیکھا ہے اور چاہتا ہوں کے آپ سب تک وہ سیکھ پہنچے ۔

میں نے سیکھا کہ اگر ہم چاہیں تو بازار کا مضرصحت کھانا کھائے بغیر بھی زندہ اور خوش رہ سکتے ہیں ۔

ذھنی خوشی اور آسودگی کے لئے در بدر بھٹکنا ضروری نہیں یہ آپکو گھر کی چار دیواری میں بھی میسّر آسکتی ہے۔

مہنگے مہنگے اسکول غیر ضروری طور پہ صرف سیسٹم کا اور اسٹیٹس کا حصہ ہیں، بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت گھر میں بھی عین ممکن ہے۔

شوہر اگر گھر کے کام کاج اور بچوں کی دیکھ بھال میں بیوی کا ھاتھ بٹائے تو اس سے اُسکی شان میں کسی طرح کی کمی یا اُس کے اسٹیس میں فرق نہیں پڑتا۔

عورتیں مہنگے مہنگے سلون اور پارلر جائے بغیر بھی خوبصورت ، جاذب نظر اور اپنے شوہر کو اچھی لگ سکتی ہیں ۔ یہ سب کچھ ڈھکوسلہ، اسٹیس اور کمپلیکس کی ماراماری ہے۔

آجکل کے مردوں پر بھی اُپر والا فارمولا اپلائی ہوتا ہے جو دلہنوں کی طرح سلونوں میں بیٹھ کر منہ گھسواتے رہتے ہیں ۔

عورتوں کو گھر میں کھانا پکانے خاص طور پہ روٹیاں ڈالنے سے کسی طرح کے کوئی بھی بے ہوشی کے دورے نہیں پڑتے نہ ہی وہ چھوٹے ماں باپ کی ہوجاتی ہیں ۔

گھر سے باہر غیر ضروری وقت گزارنے کی بجائے اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزارنے سے فیملی باؤنڈنگ اور مظبوط ہوتی ہے اور رشتے پائدار ہوتے ہیں ۔

یہ بات قدرت نے پھر ثابت کردی ہے کہ یہ صرف انسان کی خام خیالی ہے کہ حالات پر اور چیزوں پر اُسکا اختیار چلتا ہے۔

دنیا میں سپر پاور، مستحکم معیشت نام کی چیز صرف دیوانے کا خواب ہے اللہ جب چاہے منٹوں میں سب کچھ پلٹ سکتا ہے۔

وہ عورتیں اور مرد جو غیر محروموں کے لیے تیار ہوکر فخر اور اُنکی تعریف کو اہمیت دیتے ہیں یہ سمجھ چکے ہونگے کہ ایسا نہ کرنے سے موت واقع نہیں ہوتی ۔

شفاء منجانب اللہ ہے اپنی تمام تر ترقیوں کے باوجود آج بھی انسان اللہ کی قدرت کا ایسا ہی محتاج ہے جیسے کوئی لاش نہلانے جانے کی۔

دنیا میں کوئی بھی انسان اور چیز آپکی فیملی اور اپنوں کی سیفٹی اور بہتری پر ثبقت نہیں لے جاسکتی۔کاش عام حالات میں بھی ہماری سوچ ایسی ہی رہے ۔

مشکل وقت میں دنیا کا کوئی بھی انسان آپکے اُتنا کام نہیں آسکتا جتنا آپکی فیملی۔ خاص طور پر خاوند بیوی کے اور بیوی خاوند کے۔ اللہ سب کو یہ سمجھنے کو توفیق دے ۔

صفائی کا خیال ایسے مشکل حالات کے علاوہ بھی رکھا جاسکتاہے کیونکہ صفائی ہمارے ایمان کا آدھا حصہ ہے ۔

زندگی سیدھے سادھے طریقے سے گزرانے پر موت واقع نہیں ہوتی ۔

آخر میں ” میرا جسم میری مرضی ” کے علمبرداروں کے دعوے خاک میں مل گئے کیونکہ اللہ کی خلق تا قیامت اللہ کی مرضی ۔ 😂😆

تحریر میاں صاحب رحمانیہ، قاسمیہ فریدی