ایک خوبصورت تحریر نظر سے گزری تو سوچا آپ لوگوں تک بھی آسان الفاظوں میں پہنچائی جائے تاکہ ہم سب کو کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملے۔

ایک بچہ اپنے والد کو پتنگ اُڑاتے دیکھ کر کہتا ہے کہ بابا یہ دھاگے سے بندھے ہونے کی وجہ سے مزید اُپر نہیں جاپارہی کیا ہم دھاگہ توڑ دیں؟

والد نے بچے کی بات سُن کر جھٹ سے دھاگہ توڑ دیا تو پتنگ پہلے تو لہرا کر تھوڑا اُپر گئی اور پھر نیچے آنے لگی اور نیچے آتے آتے دور جاکر جھاڑیوں میں پھنس گئی۔

تب والد اپنے بچے کو سمجھاتا ہے کہ بیٹا اکثر ہم زندگی میں جس اُنچائی پر ہوتے ہیں تو ہمیں ایسا لگتا ہے کہ کچھ چیزیں جن سے ہم بندھے ہوئے ہیں ہمیں مزید اُنچائی پر جانے سے روک رہی ہیں ۔ جیساکہ والدین، بہن بھائی اور سب سے اہم شوہر یا بیوی ۔

ہم ان سے آزاد ہونا چاہتے ہیں جبکہ اصل میں یہی وہ ذریعہ ہوتے ہیں جو ہمیں اس اُنچائی پر سمبھالے ہوتے ہیں ۔ ان پائیدار رشتوں کے بغیر ہم شاید تھوڑی اُپر تو چلیں جائیں مگر پھر ہمارا وہی حشر ہونا ہے جو بن دھاگے پتنگ کا ہوا۔
لہٰذا اگر زندگی میں اپنی اُنچائیوں پر قائم رہنا چاہتے ہو تو ان دھاگوں کو کبھی مت توڑنا۔

منقول

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.