ایک بار انٹرنیٹ پر ایک ایسے صاحب سے بات چیت کرنے کا اتفاق ہواجنہوں نے خود کو ایک بہت ہی  بڑے روحانی   پیشوا کا مرید ظاہر کیا۔ بہرحال اُنکے ساتھ کچھ عرصہ گفتگو یونہی چلتی رہی تو مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ مصوف اکثر اپنے معمول کے کام اور نوکری چھوڑدیتے ہیں اور روحانی علم کی تلاش میں لمبی لمبی مہموں پر نکل کھڑے ہوتے ہیں مہینوں جنگلوں یا پہاڑوں پر جا کر گوشہ نشینی کی زندگی گزارتھے ہیں۔


 اُن صاحب کی اس بات سے مجھے شدید حیرت ہوئی کیونکہ مجھے اُنھوں نے بتارکھا تھا کے مصوف شادی شدہ ہیں اور ماشاءاللہ سے چار بچے بھی ہیں اسی لئے میں اسی حیرت کے عالم میں اُن سے سوال کربیٹھا کہ آپ کے پیٹھ پیچھے آپ کی بیوی اور بچوں کا خیال کون رکھتا ہے اُنکی ضرورتوں کو کون پورا کرتا ہے اور ان کی مالی مدد کرنے والا کون ہے ، جب آپ سب کچھ چھوڑ دیتے ہیں اور اتنے لمبے عرصے تک ایسے روحانی مشنوں پر جاتے ہیں؟”


اس شخص نے نہایت ہی پورسکوں لہجے میں جواب دیا کہ جب میں اس مقصد سے باہر ہوں تو میرے والدین اور میرے چھوٹے بھائی میری بیوی اور بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔”


میں نے اُن صاحب کو بہت طویل عرصے تک اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ اگر وہ شادی شدہ ہیں اور صاحب اولاد ہیں تو ان کی پہلی ترجیح اپنے بیوی بچوں کی دیکھ بھال کرنا اور ان کی ضروریات کو پورا کرنا ہونا چاہیے ، بجائے اس کے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کو بلاجواز کسی دوسرے کے لئے بوجھ بنائیں اور رواحانیت کی تلاش میں خود جنگلوں اور پہاڑوں کو جا جا کر ٹکریں ماریں ۔ میری ان سے یہ بحث بہت لمبے عرصے تک چلتی رہی ، لیکن ایسا لگتا تھا جیسے روحانیت کے بھوت  نے دماغ کو پوری طرح سے دھودیا ہو۔ غرض کہ وہ کسی طور سے میری بات نہیں سنتا تھا۔


بہرحال انھی بحث مباحثوں کے درمیان ایک بار مجھے ایک قصہ یاد آگیا اور میں نے ان کو بھی سنا دیا۔ بس پھر کیا تھا قصہ سننے کے بعد ، وہ صاحب شدید مشتعل ہوگئے۔ اورتو اور اُنھوں نے مجھے پرایک “جدید” صوفی ہونے کا لیبل بھی لگادیا اور کافی برہمی کے بعد وہ ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ اور پھر کبھی میری چاٹ پر نظر نہیں آئے شاید مجھے بلاک کردیا۔


آج میں وہی قصہ آپ لوگوں کو سنانے جارہا ہوں اور اُمید کرتا ہوں کہ اس قصہ سے ہم سب کو کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقعہ ملے گا۔  یہ قصہ دراصل  ایک ایسے شخص کا ہے جو کاروبار دُنیا سے تنگ آکر ترک دُنیا کا اردہ کرلیتا ہےاوراپنے بیوی بچے تنہا چھوڑ کر روحانیت حاصل کرنے کی تلاش میں نکل پڑتا ہے ۔ فقیری کا بھیس بدل کر ہاتھ میں قاصہ لئے ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں میں بھیک مانگا کرتا ہے ۔


سال گزرتے جاتے ہیں اور بل آخر ایک دن وہ اسی گاؤں میں پہنچ جاتا ہے جہاں وہ اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ رہتا تھا۔ معمول کے مطابق اس صدا لگانی شروع کی کہ اللہ تمہارا بھلا کرے فقیر کو کچھ دو۔اُسکی  بیوی نے اپنے شوہر کی آواز سنی اور اسے پہچان لیا مگر پھر بھی دل میں شک سا رہا جس کو دور کرنے کے لئے اس نے دروازہ کھولا۔ اپنے شوہر کو فقیری کے چولے میں کھڑا دیکھ کر اس نے اس کے پیالے میں گندم کا کچھ آٹا ڈالا ، اور کہا ، “حضرت آپ بیوی میرا رشتہ سالوں پہلے ختم چکا لیکن بیٹھ جاؤ؛ انسانیت کی خاطرمیں اب بھی آپ کو کچھ تازہ کھانا بناکے دے سکتی ہوں۔


اس شخص نے یہ سن کر کہا ، “ٹھیک ہے ، گندم کا آٹا ، دالیں ، نمک ، برتن ، لکڑی اورتیل سب میرے گدڑی میں موجود ہیں ، یہ راشن لے لو اوربس پکا کرمجھے دے دو ۔ یہ سن کر ، بیوی غصہ میں آگ بگولہ ہوگئی اور اس نے لاٹھی اُٹھا کر فقیر کو پیٹنا شروع کردیا اور کہنے لگی تم اے مردورتمام دنیاوی چیزوں کو اپنے گدڑی میں لے کر بغل میں دبائے پھرتا ہے اورپھر بھی دعویٰ کرتا ہے کہ تو فقیر ہےاور تونے دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کیا دنیا صرف بیوی اور بچوں تک ہی محدود ہے کہ تونے روحانیت کی تلاش میں مجھے اور اپنے چھوٹے بیٹے کو تنہا بغیر کسی سہارے ، چھوڑ دیا؟ “

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.