Friends there are 8 types of BHOOTNIS. They often live in desolated but unpurified and dirty areas/places. One can only contact them and make a relationship with them by Black, Dirty and Satanic arts because they are basically evil creature and with Positive arts you can’t make relationship with any Evil Creature. They make relationship with the performer in three shapes either as a sister, mother or wife and then help the practitioner with his evil deeds. They prone to fall in love with young, energetic and healthy man and makes relationship with them and sometimes they guys doesn’t know about them. Such a real story is written in Ghous Ali Shah R.A Paani patti’s book where a Bhootni falls in love with a young guy and comes to him every night and leave before dawn and give him Rs. 2. One night while they were on bed and the boy forgets to switch off the lamp they bhootni extends her hand and switch it off only then they guy comes to know that he had been in a relationship with a BHOOTNI. Very next morning the guy goes to his HAFIZ SAHAB who scolded him badly and gives him a taweez and the night after the bhootni comes and knocks the door but remain unable to get close to the guy so she begs and tells him that she really loves him and will never harm him and from now on she will give him Rs. 4 instead of two. He just remove the taweez from himself but guy refused to do so and therefore gets himself saved from that bhootni.




دوستوں بھوتنیوں کی لگ بھگ آٹھ اقسام ہوتی ہیں۔ یہ عام طور پر سنسان مگر گندی جگہوں پر پائی جاتی ہیں۔ ان کو مسخر صرف شیطانی عمل کے ذریعہ ہی کیا جاسکتا ہے کیونکہ نورانی عمل کے ذریعہ صرف نورانی مخلوقات مسخر ہوتی ہیں۔ یہ عامل سے مسخر ہوکر تین صورتوں میں اُس کے ساتھ رہتی ہیں ماں ، بہن یا بیوی بن کر اور جب تک عامل خود ان کو آزاد نہ کرئے یہ اس کے ناپاک عزائم کو سرانجام دینے میں اُس کی مدد کرتی ہیں۔ بہت سی بار یہ خوبصورت اور تاقتور نوجونوں پر عاشق بھی ہوجاتی ہیں اور اُن کے ساتھ تعلقات بنالیتی ہیں اسی طرح کا ایک قصہ حضرت غوث علی شاہ پانی پتی کی کتاب میں بھی موجود ہے جہاں ایک بھوتنی ایک لڑکے پر عاشق ہوگئی تھی اور رات ہوتے ہی اُس کے پاس آجاتی تھی اور صبح سے پہلے جاتے ہوئے اُسکو دو روپیہ دے کر جایا کرتی تھی۔ ایک روز جب وہ دونو چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور لڑکا چراغ بجھانا بھول گیا تھا تو بھوتنی نے ہاتھ لمبا کرکے چراغ بھجا دیا تھا جس کہ بعد لڑکے کو پتہ چلا کہ وہ جس عورت کے ساتھ سورہا ہے وہ اداصل ایک بھوتنی ہے اور پھر صبح ہوتے ہی وہ اپنے مدرسے کے حافظ صاحب کے پاس پہنچ گیا جنھوں اُس لڑکے کو ڈانٹ پھٹکار کر ایک تعویز دیا جس کے بعد وہ بھوتنی رات کو جب آئی اور دروازہ کھٹکھٹایا تو تعویز کی برکت سے وہ بھوتنی لڑکے پر دست دراز نہیں کرسکی تو رونے لگی اور کہنے لگی میں تیری عاشق ہوں تجھے کبھی نقصان نہیں دونگی اور اب سے تجھے روز چار روپیہ دیا کرونگی تو بس یہ تعویز ظائع کردے مگر لڑکے نے ایسا نہیں کیا اور اُس کی جان چھوٹ گئی۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.